Skip to main content

100 ملین ڈالر کی فصیل: جب اسرائیل لابی وہ اتفاقِ رائے خریدنے نکلی جو اب موجود ہی نہیں

 

ایک وقت تھا جب امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات پیسوں سے زیادہ نرم جذبوں پر استوار تھے۔ ہمدردی، ماضی کا پچھتاوا، اور محصور جمہوریت کے گرد بنے مشترکہ افسانے اس کی بنیاد تھے۔ اسے آپ وہ "اخلاقی ساکھ" کہہ سکتے ہیں جو دہائیوں میں جمع کی گئی اور جس کا کبھی حساب نہیں مانگا گیا۔

​اب وہ عہد ختم ہو رہا ہے۔

​اس کی جگہ اب ایک ایسی چیز نے لے لی ہے جو خالصتاً کاروباری ہے۔ نقد رقم، انتخابی چیلنجز، اور سیاسی خوف۔ یہ اب کوئی قائل کرنے کا عمل یا باہمی اتفاق نہیں رہا؛ بلکہ یہ ایک ایسا جبر ہے جسے "حمایت" کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار یہ کہانی کسی بھی تقریر سے زیادہ سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ واشنگٹن میں Israel lobby influence کا بڑھتا ہوا شور دراصل اس خاموشی کا ردِعمل ہے جو اب ختم ہو رہی ہے۔

نرم طاقت سے نقد رقم تک کا سفر

​2024 کے انتخابی چکر میں، ایپیک (AIPAC) اور اس کے اتحادیوں نے 100 ملین ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی۔ اس خطیر رقم میں سے 45 ملین ڈالر صرف ایک مقصد کے لیے تھے: کانگریس سے اسرائیل کے ان نقادوں کو ہٹانا جو بلند آواز رکھتے ہیں۔ جمال بومین اور کوری بش اس مہم کا سب سے بڑا نشانہ بنے۔ آپ ان کی سیاست کے بارے میں کچھ بھی رائے رکھیں، لیکن جو پیغام دیا گیا وہ بالکل واضح تھا: "اسرائیل کے معاملے میں لائن عبور کریں، اور پیسہ آپ کا متبادل ڈھونڈ لے گا۔"

​حامی اسے اثر و رسوخ کی دلیل قرار دیتے ہیں، لیکن یہ طاقت سے زیادہ بوکھلاہٹ نظر آتی ہے۔

کیا آپ اس پوزیشن کے دفاع کے لیے نو ہندسوں کی رقم خرچ کرتے ہیں جسے وسیع عوامی تائید حاصل ہو؟ ہرگز نہیں۔ آپ اتنی دولت تب جھونکتے ہیں جب عوامی رضامندی آپ کے ہاتھ سے پھسل رہی ہو، جب بحث قابو سے باہر ہو رہی ہو، اور جب سماجی جواز اب آپ کا کام کرنے میں ناکام ہو جائے۔ یہ طاقت کی علامت نہیں بلکہ ایک فصیل (Firewall) ہے۔ اور فصیلیں تب بنائی جاتی ہیں جب ان کے پیچھے کوئی قیمتی چیز جل رہی ہو۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک ٹوٹتے ہوئے بند کو نوٹوں کی گڈیوں سے روکنے کی کوشش کی جائے۔

جب پیسہ زہر بن جائے: Israel Lobby Influence کا بدلتا رخ

​دہائیوں تک ایپیک سے فنڈز لینا سیاسی کیریئر کے لیے ایک ایندھن کا کام کرتا تھا، خاص طور پر ڈیموکریٹس کے لیے۔ اب یہ حساب کتاب خاموشی سے بدل رہا ہے۔ سیٹھ مولٹن جیسے اعتدال پسند ڈیموکریٹ نے جب ایپیک سے عطیات لینے سے انکار کیا، تو یہ کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ٹھنڈا سیاسی تخمینہ تھا۔ ان کے نزدیک مالی فائدے سے زیادہ اب ساکھ کا نقصان بڑھ گیا تھا۔

​آج صورتحال یہ ہے کہ 91 فیصد ہاؤس ڈیموکریٹس کو فلسطین کے حامی اسکور کارڈز پر فیل قرار دیا گیا ہے، جبکہ 78 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں۔ قیادت اور ووٹرز کے راستے جدا ہو رہے ہیں۔ پھر "Uncommitted" تحریک نے ثابت کر دیا کہ ووٹرز اب غزہ جیسے انسانی مسائل پر ووٹ روکنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ محض ایک معمولی احتجاج نہیں، بلکہ نیچے سے اٹھنے والی تبدیلی کی لہر ہے۔

نسل در نسل بدلتا ہوا منظرنامہ

​یہ صرف ترقی پسندوں کی بغاوت نہیں بلکہ ایک آبادیاتی تبدیلی ہے۔ ڈیموکریٹس میں اب 59 فیصد لوگ فلسطینیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 45 سال سے کم عمر کے 51 فیصد ریپبلکنز بھی اب اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی میں کمی چاہتے ہیں۔ ہارورڈ ہیرس کا پول تو یہاں تک کہتا ہے کہ 18 سے 24 سال کے 60 فیصد نوجوان اس تنازعے میں روایتی بیانیے کو مسترد کر چکے ہیں۔ دس سال پہلے یہ بات سیاسی طور پر ناقابلِ تصور تھی، آج یہ مستقبل کا نوشتہ دیوار ہے۔

​اسرائیل کی امریکہ پر مادی انحصار کی صورتحال یہ ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک 21.7 بلین ڈالر کی فوجی امداد دی جا چکی ہے۔ اسرائیل اب "بلیو اینڈ وائٹ انڈیپینڈنس" جیسے پروگرام شروع کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی گولہ بارود کی ضرورت خود پوری کر سکے، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ واشنگٹن سے ملنے والی حمایت اب کسی بھی وقت مشروط ہو سکتی ہے۔ یہ ایک خطرناک انحصاری جال ہے جس سے نکلنا اب آسان نہیں۔

اتفاقِ رائے کے بعد کا خلا

​واشنگٹن ابھی تک اس حقیقت کو پوری طرح ہضم نہیں کر پایا۔ جب کوئی پالیسی یقین کے بجائے صرف پیسے کے سہارے زندہ رہتی ہے، تو وہ انتہائی کمزور ہو جاتی ہے۔ وہ ووٹ تو جیت سکتی ہے لیکن اخلاقی جواز کھو دیتی ہے۔ وہ وفاداری تو نافذ کر سکتی ہے لیکن نفرت کو جنم دیتی ہے۔ اور بالآخر، یہ کسی بھی غیر متوقع موڑ پر ٹوٹ جاتی ہے۔

​امریکی-اسرائیل تعلقات اب اسی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اتفاقِ رائے کم، اور جبر زیادہ۔ دونوں طرف خوف بڑھ رہا ہے۔ کیا 100 ملین ڈالر سے وقت خریدا جا سکتا ہے؟ شاید ہاں۔ لیکن کیا اس سے ایک پوری نسل کا اعتماد دوبارہ خریدا جا سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو کسی بھی احتجاج یا تقریر سے زیادہ خاموشی کے ساتھ امریکی سیاست کی کایا پلٹ رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Flying Just Got a Lot More Expensive — and Tariffs Are Only the Beginning

 As trade tensions escalate between major economies, new tariff uncertainties are weighing heavily on airlines. The consequences will ripple far beyond boardrooms and airfields: travelers should expect higher ticket prices, fewer route options, and a possible reshaping of the global aviation landscape. Immediate Impacts: Airlines Navigate a New Set of Risks In the short term, airlines are grappling with a complex mix of operational challenges: First, the aircraft supply chain is under pressure. Trade disputes between the United States, the European Union, and China have complicated the procurement of new planes. Manufacturers like Boeing, Airbus, and China's state-backed COMAC are caught in the middle, creating delays and pricing uncertainty for carriers ( Reuters ). Fuel markets are similarly volatile. Airlines typically hedge fuel prices months in advance to avoid sudden cost spikes. However, unpredictable shifts in global oil prices—driven in part by trade instability—are u...

What’s it like to grow up in Vienna, Austria? | Young and European

Key Themes and Insights: City Overview 🏙️ Vienna is often referred to as the 'City of Music' and has consistently been voted the world's most livable city. ✨ The city balances open-mindedness with rich traditions, offering impressive infrastructure and educational opportunities. Living Environment 🏡 Sebi enjoys living in the eighth district, Josefstadt, known for its proximity to the city center but high rental prices. 💰 The average rent in Vienna is €9.80 per square meter, making it relatively affordable compared to other European cities, although this district is an exception. Education System 📚 Sebi attends one of the oldest schools in Vienna, where he studies multiple languages and engages in higher education preparation. 🎓 The average age for Austrians to move out is 25.5 years, with many students like Sebi aspiring to continue their education at nearby universities, such as the University of Vienna. Transportation 🚉 Vienna has an excellent public transport syste...

Could the Crown Slip? The Dollar's Grip in a Shifting World

 Alright, let's dive into the fascinating, and often overstated, question of whether the Euro could dethrone the mighty Dollar. Forget the daily market jitters; we're talking about the bedrock of global finance here. For decades, the US dollar has reigned supreme as the world's reserve currency. It's the currency most central banks hold in their reserves, the one used for pricing major commodities like oil, and the go-to for international trade. This dominance isn't just about bragging rights; it gives the US significant economic advantages, from lower borrowing costs to the ability to exert financial influence globally. But lately, whispers of change have grown louder. The idea that the dollar's grip might be loosening isn't some fringe conspiracy theory. Factors like the sheer scale of US debt, occasional bouts of political instability, and even the weaponization of financial sanctions have prompted some nations to explore alternatives. Think of it like a ...