یہ جملہ سوشل میڈیا پر بار بار دہرایا جاتا ہے:
“مغرب نے بیوی کے حقوق کے نام پر ایسے قوانین بنا دیے کہ لوگ شادی سے ہی بھاگنے لگے۔”
یہ بات پہلی نظر میں پُرکشش بھی لگتی ہے، اور جذباتی طور پر قائل کرنے والی بھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے؟
یا یہ ایک پیچیدہ سماجی تبدیلی کو ایک سادہ جملے میں سمیٹنے کی کوشش ہے؟
اس مضمون میں ہم اسی دعوے کو قانون، سماج اور اقدار کے تناظر میں پرکھیں گے۔
شادی کی شرح واقعی کم ہوئی ہے — مگر کیوں؟
یہ حقیقت ہے کہ مغربی ممالک میں:
شادی کی شرح کم ہو رہی ہےلوگ دیر سے شادی کر رہے ہیں یا بالکل نہیں کر رہے
ساتھ رہنے (cohabitation) کا رجحان بڑھا ہے
لیکن صرف یہ کہنا کہ یہ سب بیوی کے حقوق کے قوانین کی وجہ سے ہوا، ایک ادھوری تصویر پیش کرتا ہے۔
شادی میں کمی ایک کثیر الجہتی عمل کا نتیجہ ہے، جس میں قانون صرف ایک عنصر ہے، پورا سبب نہیں۔
کیا قانونی ذمہ داریاں واقعی “ناقابلِ برداشت” ہو گئیں؟
مغرب میں شادی کے بعد:
طلاق کی صورت میں مالی ذمہ داریاں عائد ہو سکتی ہیںبچوں کی کفالت لازمی ہے
اثاثوں کی تقسیم کا قانون موجود ہے
یہ سب سچ ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی قوانین عورتوں کے لیے معاشی تحفظ کا ذریعہ بنے، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو شادی کے دوران کیریئر چھوڑ دیتی ہیں یا بچوں کی پرورش کرتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ قوانین موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ:
شادی کو اب ایک قانونی معاہدہ سمجھا جانے لگا ہےجذباتی رشتہ قانونی خطرے میں بدل گیا ہے
یہ تبدیلی قانون سے زیادہ سوچ کی تبدیلی ہے۔
اصل تبدیلی کہاں آئی؟ قانون میں یا اقدار میں؟
یہاں ایک اہم نکتہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
مغرب میں:
مذہب سماجی فیصلوں کا مرکز نہیں رہاخاندان فرد کی شناخت کا بنیادی ستون نہیں رہا
خودمختاری اور ذاتی آزادی کو اولین حیثیت حاصل ہو گئی
ایسے ماحول میں:
شادی “ضرورت” نہیں رہیبلکہ ایک اختیاری فیصلہ بن گئی
جب شادی ضرورت نہ رہے، تو لوگ اس کے فوائد اور نقصانات کو کاروباری انداز میں تولنے لگتے ہیں۔
یہاں قانون ثانوی ہو جاتا ہے، اور طرزِ زندگی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
گرل فرینڈ کلچر کیوں پھیلا؟
یہ کہنا کہ:
“لوگ مجبور ہو کر حرام کی طرف گئے”
یہ بات مغربی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
گرل فرینڈ کلچر اس لیے پھیلا کیونکہ:
غیر شادی شدہ تعلقات پر سماجی داغ نہیںمذہبی یا اخلاقی ممانعت مؤثر نہیں رہی
لوگ جذباتی قربت چاہتے ہیں، مستقل ذمہ داری نہیں
یہ انتخاب تھا، مجبوری نہیں۔
یہاں “حرام” اور “حلال” کی تقسیم اخلاقی نہیں بلکہ ثقافتی ہو چکی ہے۔
“حرام کو حلال نہیں کیا، حلال کو مشکل بنا دیا” — یہ جملہ کہاں فِٹ بیٹھتا ہے؟
یہ جملہ مغرب سے زیادہ مذہبی معاشروں پر درست بیٹھتا ہے۔
جہاں:
شادی کو رسموں نے مہنگا بنا دیامعاشی بوجھ غیر ضروری حد تک بڑھا دیا گیا
سماجی توقعات حقیقت سے کٹ گئیں
وہاں واقعی:
حلال مشکل ہو جاتا ہےاور لوگ پھسلتے ہیں
مغرب میں مسئلہ یہ نہیں کہ حلال مشکل ہے، بلکہ یہ ہے کہ:
حلال و حرام کا تصور ہی سماجی مرکزیت کھو چکا ہے
کیا بیوی کے حقوق مسئلہ ہیں؟
اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:
“بیوی کے حقوق زیادہ ہو گئے”
بلکہ سوال یہ ہے:
کیا حقوق اور ذمہ داریوں میں توازن باقی رہا؟
اگر:
آزادی ہو، مگر وابستگی نہ ہو
قانون ہو، مگر اخلاقی بنیاد نہ ہو
تو خاندان کمزور ہو جاتا ہے — چاہے معاشرہ مشرقی ہو یا مغربی۔
نتیجہ: مسئلہ نعرہ نہیں، نظام ہے
یہ کہنا آسان ہے کہ:
“مغرب نے شادی برباد کر دی”
لیکن سچ یہ ہے کہ:
بلکہ زندگی کے مقصد، تعلقات کی نوعیت، اور فرد کی ترجیحات کو بدل دیا
شادی اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکی۔
اصل سوال یہ نہیں کہ:
کون سا معاشرہ درست ہے؟
اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم ایسا نظام بنا پا رہے ہیں جہاں محبت، ذمہ داری، قانون اور اخلاق ایک ساتھ چل سکیں؟
شاید یہی وہ سوال ہے جس سے ہم سب بچنا چاہتے ہیں

No comments:
Post a Comment