کبھی کبھی لگتا ہے ہم اسلام کی حفاظت کر رہے ہیں۔
اور کبھی، سچ پوچھیں، ہم اسے سانس لینے سے روک رہے ہوتے ہیں۔
یہ جملہ سن کر اکثر لوگ چونک جاتے ہیں کہ
“اسلام میں تو تبدیلیاں حضرت عمرؓ کے دور سے شروع ہو گئی تھیں”۔
گویا کوئی جرم ہو گیا ہو۔
گویا تاریخ نے کوئی غداری کر دی ہو۔
مگر اصل سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آئی یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے: ہم تبدیلی سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟
اسلام مکمل تھا، مگر زندگی مکمل نہیں تھی
قرآن نے خود اعلان کیا کہ دین مکمل ہو چکا۔
اس پر کوئی سنجیدہ اختلاف نہیں۔
لیکن دین مکمل ہونے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ:
ریاست ہمیشہ سادہ رہے گی
معاشرہ پیچیدہ نہیں ہوگا
نئے سوال جنم نہیں لیں گے
اسلام وحی کے طور پر مکمل تھا،
مگر زندگی حرکت میں تھی۔
اور حرکت سوال پیدا کرتی ہے۔
حضرت ابوبکرؓ: اخلاقی معیار، ریاستی ماڈل نہیں
حضرت ابوبکرؓ کا دور اکثر “اصل اسلام” کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے۔
لیکن ایک اہم نکتہ ہم بھول جاتے ہیں: یہ دور اخلاقی baseline تھا،
نہ کہ ایک مکمل bureaucratic ریاست کا نمونہ۔
ریاست چھوٹی تھی۔
فیصلے سیدھے تھے۔
مسائل محدود تھے۔
یہی وجہ ہے کہ وہاں:
کم اجتہاد
زیادہ براہِ راست اطاعت
نظر آتی ہے۔
حضرت عمرؓ اور اسلام کی حرکت
یہاں سے کہانی بدلتی ہے۔
یا یوں کہیے، یہاں سے زندگی شروع ہوتی ہے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں:
سلطنت پھیلتی ہے
مختلف تہذیبیں شامل ہوتی ہیں
نئے سوال آتے ہیں
اور یہاں ایک اہم بات ہوتی ہے:
قرآن کو الفاظ نہیں، مقاصد کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
قحط میں حدِ سرقہ روک دی جاتی ہے۔
مفتوحہ زمینیں تقسیم نہیں ہوتیں۔
نیا انتظامی ڈھانچہ بنتا ہے۔
اگر ہم آج کے بعض منبروں پر یہ فیصلے رکھ دیں،
تو شاید انہیں “تبدیلی” کہا جائے۔
شاید “نرمی” بھی۔
حالانکہ یہ سب اسلام کی روح کے مطابق تھا۔
فقہ: اسلام نہیں، اسلام کی کوشش
حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی—
یہ سب اسلام نہیں ہیں۔
یہ اسلام کو سمجھنے کی انسانی کوششیں ہیں۔
یہ مکاتب:
بدلتے حالات کے جواب تھے
مختلف جغرافیوں کے مسائل کا حل تھے
مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں ہم نے: فہمِ دین کو دین کے برابر کھڑا کر دیا۔
فقہ کو سوال سے نکال کر تقدیس میں رکھ دیا۔
اور پھر تقدیس کو ہتھیار بنا لیا۔
اصل مسئلہ تبدیلی نہیں، جمود ہے
ہم بار بار کہتے ہیں: “اسلام بدل گیا”
حالانکہ سچ یہ ہے: اسلام رکا نہیں، ہم رک گئے۔
ہم نے ایک خاص صدی کو محفوظ کر لیا۔
ایک خاص تشریح کو آخری سچ بنا لیا۔
اور سوال پوچھنے والے کو مشکوک قرار دے دیا۔
یہ سب دین کی حفاظت کے نام پر ہوا۔
مگر اکثر دین کی روح اس میں گم ہو گئی۔
تو پھر اصل اسلام کی پہچان کیا ہے؟
شاید کوئی ایک آسان جواب نہیں۔
مگر کچھ اشارے ضرور ہیں:
جو بات عدل کو کچلے، وہ اسلام نہیں
جو دلیل انسان کو روند دے، وہ مشکوک ہے
جو روایت سوال سے ڈرے، وہ کمزور ہے
اسلام کبھی جامد نہیں تھا۔
وہ زندہ لوگوں کے لیے آیا تھا۔
زندہ مسائل کے ساتھ۔
آخری بات
شاید ہمیں نیا اسلام نہیں چاہیے۔
شاید ہمیں یہ ماننے کی ضرورت ہے کہ: ہم نے اسلام کو نہیں بدلا—
ہم نے اسے روک دیا۔
اور سوال یہ نہیں کہ
اسلام کہاں بدل گیا؟
اصل سوال یہ ہے: ہم نے کب سوچنا چھوڑ دیا؟
No comments:
Post a Comment