پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ذکر آتے ہی گفتگو عموماً جذباتی رخ اختیار کر لیتی ہے۔ قومی وقار، سبز دم والا جہاز، ماضی کی شان، یا پھر نجکاری کے حق اور مخالفت میں نعرے۔
مگر ایک بنیادی سوال ہے جس سے سب بچتے ہیں:
پی آئی اے آخر تباہ کیوں ہوئی؟
یہ زوال کسی ایک فیصلے، کسی ایک حادثے، یا کسی ایک حکومت کا نتیجہ نہیں۔ پی آئی اے اچانک نہیں گری۔ اسے برسوں میں آہستہ آہستہ کمزور کیا گیا۔
ادارہ نہیں، سیاسی پارکنگ
پی آئی اے کو ایک پیشہ ور ادارہ ہونا چاہیے تھا، مگر رفتہ رفتہ یہ سیاسی نوازشات کی جگہ بن گئی۔
ہر حکومت آئی، اپنے لوگوں کو کھپایا۔ ضرورت سے کہیں زیادہ بھرتیاں ہوئیں۔ ایسے شعبوں میں عملہ رکھا گیا جہاں پہلے ہی گنجائش ختم ہو چکی تھی۔
کاغذوں میں ہزاروں ملازمین، مگر کارکردگی مسلسل گرتی چلی گئی۔
دنیا کی کامیاب ایئرلائنز میں ایک جہاز کے لیے محدود اور تربیت یافتہ عملہ ہوتا ہے۔ پی آئی اے میں ایک جہاز پر کئی گنا زیادہ لوگ۔ اخراجات بڑھتے گئے، آمدن وہیں کی وہیں رہی۔
کاروباری منطق کے بجائے اثر و رسوخ
پروازوں کے روٹس مسافروں کی مانگ یا مالی فائدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اثر و رسوخ پر طے ہوتے رہے۔
کچھ روٹس سالہا سال خسارے میں رہے، مگر بند نہ ہوئے۔
جہازوں کی خریداری، لیزنگ، اور مرمت کے معاملات ہمیشہ سوالات کی زد میں رہے۔ آڈٹ رپورٹس آئیں، مگر اصلاح نہ ہو سکی۔
انتظامیہ بدلتی رہی، نظام نہیں
ہر حکومت کے ساتھ نیا چیئرمین، نیا سی ای او، نئی ترجیحات—اور پرانی غلطیاں۔
کوئی طویل المدتی حکمتِ عملی نہیں، کوئی تسلسل نہیں۔
ادارے نعروں سے نہیں، نظام سے چلتے ہیں۔ اور یہی چیز پی آئی اے میں کبھی قائم نہ ہو سکی۔
اعداد و شمار چیخ چیخ کر بولتے ہیں
اگر جذبات کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو حقیقت بہت واضح ہے۔
اربوں روپے کے جمع شدہ نقصانات۔
اسپیئر پارٹس نہ ہونے کی وجہ سے زمین پر کھڑے جہاز۔
تربیت یافتہ پائلٹس اور انجینئرز موجود، مگر وسائل ناکافی۔
بین الاقوامی پابندیاں جنہوں نے پی آئی اے کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔
اور جب بھی خسارہ ناقابلِ برداشت ہوا، ریاست نے آگے بڑھ کر ٹیکس دہندگان کے پیسے سے بیل آؤٹ دے دیا۔
کرپشن: باتیں بہت، انجام کم
پی آئی اے میں کرپشن کے الزامات ہمیشہ گردش میں رہے۔
خبریں بنیں، فائلیں کھلیں، مگر فیصلے؟
زیادہ تر معاملات یا تو دب گئے، یا وقت کی دھول میں گم ہو گئے۔
جب احتساب ادھورا ہو، تو اصلاح بھی ادھوری رہتی ہے۔
اصل مسئلہ کہاں ہے؟
نجکاری ہو یا نہ ہو، یونینز رہیں یا ختم ہوں—یہ سب ثانوی بحثیں ہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم ماننے کو تیار ہیں کہ پی آئی اے کو دہائیوں کی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور کرپشن نے تباہ کیا؟
جب تک اس سچ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہر نیا “بحالی منصوبہ” صرف ایک اور پریس کانفرنس رہے گا۔
اور پی آئی اے، ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک سبق بن کر رہ جائے گی
Post a Comment