کسی بھی ریاست کا زوال اور عروج محض تقدیر کا کھیل نہیں ہوتا، بلکہ یہ درست وقت پر درست فیصلے کی داستان ہوتی ہے۔ برسوں تک "ایشیا کا بیمار آدمی" کہلانے کے بعد، کیا آپ نے سوچا ہے کہ اچانک عالمی طاقتیں دوبارہ اسلام آباد کی طرف کیوں دیکھ رہی ہیں؟ پاکستان کا علاقائی دفاعی کردار اب محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔
معتبر بنیاد
سنہ 2025 پاکستان کے لیے ایک ایسا "سویٹ اسپاٹ" ثابت ہوا ہے جہاں اس کے اتحادی اسے ایک بوجھ کے بجائے ایک ضرورت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر بھارت کے ساتھ حالیہ مختصر مگر شدید ٹکراؤ میں پاکستان کی فضائیہ اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم نے جو مہارت دکھائی، اس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ اس دفاعی کارکردگی نے ثابت کیا کہ معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان کے پاس وہ "کائنیٹک صلاحیت" موجود ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتی ہے۔
داستانی تسلسل
یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں تھی۔ جب اسرائیل کے جارحانہ اقدامات دوحہ اور خلیجی ممالک تک پہنچے، تو عرب دنیا کو احساس ہوا کہ محض امریکی چھتری اب کافی نہیں ہے۔ پاکستان ایک پرانے لائٹ ہاؤس کی مانند ہے جس کا شیشہ برسوں کی دھول کے بعد اب صاف ہوا ہے؛ اس کی روشنی اب بحیرہ عرب کے پار نئے راستے دکھا رہی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ اسی تبدیلی کا شاخسانہ ہے۔ لیکن کیا ہم اس بیرونی کامیابی کو اندرونی استحکام میں بدل پائیں گے؟ افغانستان کی سرحد سے ابھرتی ہوئی شورش اور منجمد معیشت اب بھی بڑے سوالیہ نشان ہیں۔
غیر جانبدارانہ مگر پُرجوش نتیجہ
پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت کا دارومدار اب مکمل طور پر اس کی معاشی بنیادوں پر ہے۔ "دیوالیہ پن سے بچنے کی کوشش" اور "علاقائی سیکیورٹی فراہم کنندہ" کے دو متضاد بیانیے ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس بات کا ادراک موجود ہے کہ اگر معاشی ڈھانچہ مضبوط نہ ہوا تو یہ نئی اہمیت ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ 2026 ہمارے لیے ایک سنگِ میل ہوگا؛ یہ سال ثابت کرے گا کہ ہم واقعی بدل رہے ہیں یا یہ محض ایک عارضی موقع تھا۔
Post a Comment