جارحانہ سفارت کاری اور 'ہارڈ اسٹیٹ' کا قیام: کیا پاکستان نے عالمی بساط پر اپنی چال بدل لی ہے؟

 

عام طور پر بین الاقوامی تعلقات کو خشک اعداد و شمار اور پیچیدہ معاہدوں کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، لیکن ایک عام پاکستانی کے لیے اس کا مطلب صرف "امن اور وقار" ہے۔ ہم نے برسوں سے اپنی سرحدوں پر بے چینی اور اندرونی طور پر دہشت گردی کے عفریت کا سامنا کیا ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ریاست کی ایک سخت پالیسی ہماری روزمرہ زندگی کے سکون پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟ جب ریاست اپنی بقا کی جنگ لڑتی ہے، تو اس کا اثر گلی کوچوں تک محسوس ہوتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو محض دفاعی نہیں، بلکہ جارحانہ نقطہ نظر سے دیکھیں۔



​برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے حال ہی میں پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی اور موجودہ عسکری قیادت کی بصیرت کو نمایاں طور پر سراہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے ساتھ بیک وقت متوازن تعلقات قائم کر کے ایک "کثیر الجہتی سفارت کاری" کا کامیاب نمونہ پیش کیا ہے۔ یہ محض کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی "ہارڈ اسٹیٹ" بننے کی طرف پہلا قدم ہے۔ ریاست کا یہ نیا رخ دراصل بدلتے ہوئے عالمی نظام میں اپنے وجود کو منوانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

​ماضی میں پاکستان کو اکثر بین الاقوامی دباؤ کا شکار بنایا جاتا تھا، مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ مئی 2025 تک کی پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کی سازشوں کو کس طرح دھول چٹائی ہے۔ دشمن نے کبھی آبی جارحیت کا سہارا لیا تو کبھی سرحد پار سے دہشت گرد گروہوں کو فعال کیا، لیکن پاکستان کی بروقت حکمتِ عملی نے ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔

​پاکستان کی یہ نئی پالیسی اس "شطرنج کے ماہر کھلاڑی" کی مانند ہے جو صرف اپنے مہروں کا دفاع نہیں کرتا، بلکہ اپنی چالوں سے حریف کو شہ مات دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ سی پیک (CPEC) کے خلاف ہونے والی عالمی سازشیں اور خلیجی ریاستوں میں دشمن کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایک دیوار کی طرح ہمارے راستے میں کھڑا تھا۔ ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے ریاست نے "سخت رویہ" اختیار کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ وقت کی اہم ضرورت تھی۔ یاد رہے، مفاہمت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

​خارجہ پالیسی میں جذبات سے زیادہ ٹھوس نتائج اور قومی مفاد اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سمت یہ واضح کرتی ہے کہ "نرمی کا دور" اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ کسی بھی قوم کے لیے اس کا مضبوط (Hard State) ہونا ہی اس کی بقا اور خود مختاری کی واحد ضمانت ہے۔ پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کا نفاذ دراصل خود اعتمادی کی اس منزل کی طرف اشارہ ہے جہاں ہم عالمی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے مفادات کا سودا کرنا سیکھ چکے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسی قوم کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہیں جو اپنی تقدیر کے فیصلے خود کرنے کی ہمت رکھتی ہو؟ بلاشبہ، یہ راستہ مشکل ہے، مگر وقار کا واحد راستہ یہی ہے۔

اگلا قدم: کیا آپ

0/Post a Comment/Comments