امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کیسے ’’قواعد پر مبنی عالمی نظام‘‘ کو نہ ختم ہونے والی جنگ کا اجازت نامہ بنا دیا
بین الاقوامی قانون غزہ میں منہدم نہیں ہو رہا۔
وہ بالکل وہیں کھڑا ہے جہاں اسے کھڑا ہونا سکھایا گیا تھا۔
خاموش۔
لچکدار۔
طاقت کا وفادار۔
جب ایک ریاست سرحدوں کے پار ہزاروں فوجی کارروائیاں کرے، شہری آبادیوں کو ملبے میں بدل دے، پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لے آئے، اور پھر بھی نہ پابندیاں لگیں، نہ اسلحے کی ترسیل رکے، نہ کوئی مقدمہ چلے — تو مسئلہ قانون کے نفاذ کا نہیں ہوتا۔
مسئلہ نیت کا ہوتا ہے۔
غزہ کوئی قانونی استثنا نہیں۔
غزہ وہ لمحہ ہے جب نظام خود بول پڑتا ہے، بلا شرمندگی۔
’’قواعد پر مبنی نظام‘‘ کا افسانہ
برسوں سے امریکہ اور اس کے اتحادی دنیا کو ایک دل فریب جملہ بیچتے آئے ہیں:
قواعد پر مبنی عالمی نظام۔
یہ جملہ انصاف کا وعدہ کرتا ہے۔
برابری کا۔
غیر جانبداری کا۔
لیکن گزشتہ برس نے اس وہم کو چیر کر رکھ دیا۔
اگر بین الاقوامی قانون واقعی ویسا ہی کام کرتا جیسا بتایا جاتا ہے، تو کچھ چیزیں خود بخود ہوتیں:
قبضے کی مدت مقرر ہوتی
اجتماعی سزا پر پابندیاں لگتیں
شہری ہلاکتیں فوری کارروائی کا باعث بنتیں
ریاستی خودمختاری، اتحادی ہونے کے باوجود، معنی رکھتی
لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانون ایک درجہ بندی کے تحت چلتا ہے۔
وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کیا ہوا۔
وہ یہ دیکھتا ہے کہ کس نے کیا۔
ایک ہی قانون، مختلف نتائج
جب روس خودمختاری توڑتا ہے تو ردعمل واضح ہوتا ہے۔ پابندیاں، عدالتیں، عالمی مذمت، اور ایک اخلاقی زبان جس میں ابہام کی گنجائش نہیں ہوتی۔
جب یہی عمل اسرائیل کرتا ہے، تو زبان بدل جاتی ہے۔
سب کچھ ’’پیچیدہ‘‘ ہو جاتا ہے۔
سیاق و سباق لامتناہی ہو جاتا ہے۔
اور احتساب ہمیشہ کے لیے ملتوی۔
اسے اکثر منافقت کہا جاتا ہے۔
یہ لفظ بہت نرم ہے۔
یہ تضاد نہیں۔
یہ ڈیزائن ہے۔
بین الاقوامی قانون ایک غیر جانبدار منصف نہیں رہا۔
یہ ایک اجازت نامہ ہے۔
کچھ ریاستوں کو بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا نہیں کر سکتیں۔
کچھ کو یہ کہ وہ کتنا کچھ کر کے بچ سکتی ہیں۔
اعداد و شمار، مگر نتائج کے بغیر
جنگی تنازعات پر نظر رکھنے والے ادارے ہزاروں فوجی کارروائیوں کو تفصیل سے دستاویزی شکل دیتے ہیں۔ تاریخیں، مقامات، ہلاکتیں، طریقۂ جنگ۔
اعداد موجود ہیں۔
شواہد موجود ہیں۔
پیمانہ ناقابلِ انکار ہے۔
اور پھر بھی… کچھ نہیں ہوتا۔
نہ پابندیاں۔
نہ اسلحہ کی فراہمی کی معطلی۔
نہ کوئی ایسی عدالت جس کے پاس اختیار ہو۔
کیونکہ قانون کو حرکت اعداد نہیں دیتے۔
سیاست دیتی ہے۔
سیاسی ارادے کے بغیر قانون محض آرکائیو بن جاتا ہے۔
دکھ کا ریکارڈ، انصاف کا نہیں۔
’’خود دفاع‘‘ — وہ استثنا جو قانون کو نگل گیا
اس پورے نظام کے مرکز میں ایک لفظ ہے: خود دفاع۔
یہ کبھی ایک محدود اجازت تھی۔
اب ایک قانونی خلا ہے جس میں سب کچھ غائب ہو جاتا ہے:
پیشگی حملے
لامتناہی قبضہ
محاصرے
بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں
جب کسی امریکی اتحادی کی طرف سے ’’سیکورٹی‘‘ کا نعرہ لگتا ہے، قانون پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
عدالتیں ہچکچاتی ہیں۔
سفارتکار نرم زبان اختیار کرتے ہیں۔
اور احتساب خاموشی سے ختم ہو جاتا ہے۔
یہ حادثہ نہیں۔
یہ بنیاد ہے۔
کراچی سے دیکھیں تو سب جانا پہچانا لگتا ہے
کراچی میں بیٹھ کر یہ سب نظریاتی نہیں لگتا۔
ہم جانتے ہیں کہ ’’اسٹریٹیجک مفادات‘‘ کس طرح انسانی جانوں کو روند دیتے ہیں۔
ہم نے دیکھا ہے کہ رپورٹس کیسے ریلیف کی جگہ لے لیتی ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ مظلوم کو انصاف نہیں، دستاویز ملتی ہے۔
بین الاقوامی قانون کی آواز تب مختلف لگتی ہے جب وہ ظالم کے دروازے پر دستک ہی نہ دے۔
گلوبل ساؤتھ اس تضاد کے ساتھ دہائیوں سے زندہ ہے۔
غزہ نے بس اسے چھپانا ناممکن بنا دیا ہے۔
آج بین الاقوامی قانون حقیقت میں کیا کرتا ہے
اب ایک تلخ سچ۔
بین الاقوامی قانون آج جنگ روکنے کے لیے نہیں ہے۔
وہ غصے کو منظم کرنے کے لیے ہے۔
یہ صحافیوں کو زبان دیتا ہے۔
سفارتکاروں کو ڈھال۔
حکومتوں کو انکار کی گنجائش۔
اور متاثرین کو؟
انہیں رپورٹس ملتی ہیں۔
پینل ڈسکشنز۔
خاموشی کے لمحات۔
انصاف نہیں۔
غزہ نے نظام نہیں توڑا
جب لوگ پوچھتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون غزہ میں کیوں ناکام ہو گیا، تو سوال ہی غلط ہوتا ہے۔
قانون ناکام نہیں ہوا۔
وہ وہی کر رہا ہے جو اسے سکھایا گیا تھا:
طاقت کی حفاظت، احتساب میں تاخیر، اور اسے نظم کہنا۔
غزہ نے ’’قواعد پر مبنی نظام‘‘ کی خامی نہیں دکھائی۔
اس نے یہ دکھایا کہ یہ قواعد کن کے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے۔
اور ایک بار یہ سمجھ آ جائے…
تو اسے بھلانا ممکن نہیں رہتا۔
Post a Comment