جب اسلامی بینکاری اسلامی دکھائی دے، مگر ویسی کام نہ کرے

 

قارئین کے لیے وضاحت

یہ تحریر ایک سابق ریگولیٹر کے دلائل کا تجزیہ ہے۔ اس میں کوئی مذہبی فتویٰ یا عقیدے کا فیصلہ شامل نہیں۔ مقصد صرف فکری اور معاشی جائزہ ہے


اخلاقی مالیات کا فریب؟

جب اسلامی بینکاری اسلامی دکھائی دے، مگر ویسی کام نہ کرے

تقریباً پچیس برس تک پرویز سعید اسلامی بینکاری کے ناقد نہیں تھے۔
وہ اس نظام کے معماروں میں شامل تھے۔

انہوں نے اس شعبے میں کام کیا، اس کے قواعد بنانے میں حصہ لیا، اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں اسلامی بینکاری کے ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچے۔ یہ کوئی باہر بیٹھا شخص نہیں تھا جو تنقید کر رہا ہو۔ یہ وہ شخص تھا جس نے خود یہ عمارت کھڑی کی تھی۔

اسی لیے ان کا حالیہ مؤقف بہت سے لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے۔ سعید یہ نہیں کہتے کہ مسلمانوں کو دین چھوڑ دینا چاہیے یا مالی نظام کو سیکولر ہونا چاہیے۔ ان کی بات اس سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔
وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جو چیز آج اسلامی بینکاری کے نام سے پیش کی جا رہی ہے، کیا وہ واقعی اس اخلاقی معیار پر پوری اترتی ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے؟

یہ جملہ ہی بہت سوں کو ناگوار گزرتا ہے۔ شاید جانا بھی چاہیے۔

رِبا، سود اور ایک ایسا سوال جسے چھیڑنا منع سمجھا گیا

سعید کی تنقید کی بنیاد ایک ایسی مساوات ہے جس پر سوال اٹھانا ہمیں سکھایا ہی نہیں گیا۔
رِبا حرام ہے۔
سود رِبا ہے۔
بات ختم۔

سعید کہتے ہیں کہ یہ مساوات فکری طور پر کمزور ہو سکتی ہے۔

وہ اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ قرآن نے رِبا کو حرام قرار دیا ہے۔ ان کا سوال یہ ہے کہ کیا جدید مالی نظام میں ہر قسم کا سود لازماً رِبا کے زمرے میں آتا ہے؟ خاص طور پر جب اس میں استحصال، جبر یا ظلم شامل نہ ہو۔

ان کے مطابق، رِبا ایک اخلاقی برائی کے طور پر منع کیا گیا تھا، جبکہ وقت کی قدر (Time Value of Money) ایک معاشی حقیقت ہے جسے تجارت ہمیشہ سے تسلیم کرتی آئی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ایک اخلاقی ممانعت کو ایک تکنیکی شارٹ کٹ میں بدل دیا گیا۔

کووِڈ کے لاک ڈاؤن کے دوران، سعید نے قرآن کے الفاظ کو دوبارہ پڑھا۔ روایت کے چشمے سے نہیں، معیشت کے زاویے سے۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ رِبا کا تجزیہ تاریخی اور فقہی انداز میں تو ہوا، مگر معاشی منطق کے ساتھ نہیں۔

ایک موقع پر وہ ایسی مثال دیتے ہیں جس پر بہت لوگوں نے ناراضی ظاہر کی۔ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح کبھی مذہبی اتھارٹی نے سائنسی حقیقت کو رد کیا تھا، آج بعض علمی حلقے مسلمہ معاشی اصولوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اختلاف کو دلیل سے نہیں، خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس تشبیہ سے اتفاق ضروری نہیں، مگر اس کی شدت کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔

جب تجارت صرف کاغذوں میں رہ جائے

اسلامی بینکاری سود سے بچنے کے لیے لین دین کو تجارت کی شکل دیتی ہے۔
کاغذوں میں بینک چیز خریدتا ہے۔
کاغذوں میں وہی چیز نفع کے ساتھ فروخت کرتا ہے۔
یوں سود کی جگہ منافع آ جاتا ہے۔

سعید ایک سادہ مگر بے رحم سوال کرتے ہیں:
یہ تجارت آخر کہاں ہے؟

اکثر اسلامی بینکوں کے پاس نہ گودام ہیں، نہ تاجر، نہ عملی صلاحیت کہ وہ واقعی اشیاء کی خرید و فروخت کریں۔ جو کچھ ہوتا ہے وہ چند منٹوں میں مکمل ہونے والا کاغذی لین دین ہوتا ہے، جس میں ثالث شامل ہوتے ہیں جن کا مقصد صرف دستاویزات مکمل کرنا ہوتا ہے۔

نہ بینک کو وہ چیز درکار ہوتی ہے، نہ گاہک کو۔
دونوں کو نقد رقم چاہیے۔

اس مرحلے پر اسے تجارت کہنا محض ایک رسمی دعویٰ بن جاتا ہے۔

یہ وہ نکتہ ہے جہاں میں خود رک گیا۔ کیونکہ ایک بار یہ بات سمجھ آ جائے تو پھر نظر چرا لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر حقیقت میں یہ قرض ہے، مگر شکل میں بیع، تو اخلاقی سوال ختم نہیں ہوتا۔ وہ صرف اصطلاحات کے نیچے دب جاتا ہے۔

حیلہ، پیچیدگی اور پاکیزگی کی قیمت

فقہ میں بعض حالات میں قانونی تدبیروں، یعنی حیلہ، کی اجازت دی گئی ہے۔ سعید کہتے ہیں کہ جدید اسلامی بینکاری نے حیلہ کو پورا نظام بنا دیا ہے۔

معاہدوں پر معاہدے اس لیے نہیں ہوتے کہ نتیجہ بدلا جائے، بلکہ اس لیے کہ اسے نیا نام دیا جا سکے۔ ہر اضافی معاہدہ قانونی لاگت بڑھاتا ہے۔ ہر مرحلہ پیچیدگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اور ہر مرحلے کو شریعت کی پاسداری کا نام دیا جاتا ہے۔

نتیجہ وہی ہے جو بہت سے صارف خاموشی سے محسوس کرتے ہیں، مگر کم ہی کہتے ہیں:
اسلامی بینکاری اکثر مہنگی پڑتی ہے۔

زیادہ دستاویزات، زیادہ فیسیں، زیادہ منافع کی شرح۔
سب کچھ صرف اس لیے کہ نتیجہ وہی رہے، مگر نام بدل جائے۔

اخلاقی تضاد یہاں صاف نظر آتا ہے۔ جو نظام انصاف کے لیے آیا تھا، وہ عقیدے پر مبنی صارف سے اضافی قیمت وصول کر رہا ہے۔

ضابطوں میں استثنا کے سہارے

سعید ایک اور نکتہ اٹھاتے ہیں جو کم ہی زیرِ بحث آتا ہے۔
اسلامی بینکاری روایتی نظام کی جگہ نہیں لیتی، بلکہ اسی کے اندر استثناؤں کے ذریعے چلتی ہے۔

قوانین میں تبدیلیاں، ٹیکس میں رعایتیں، اکاؤنٹنگ کے خصوصی اصول — یہ سب اس لیے کہ اسلامی مصنوعات قابلِ عمل رہ سکیں۔
اگر یہ نظام واقعی مختلف ہوتا، تو اسے بار بار خصوصی رعایتوں کی ضرورت نہ پڑتی۔

یہ فرق کی علامت نہیں، بلکہ مطابقت کی علامت ہے۔

عقیدہ، منافع اور ایک مخصوص منڈی

اس سب کے باوجود، اسلامی بینکاری تیزی سے پھیل رہی ہے۔

پاکستان میں اس کی شرح نمو روایتی بینکاری سے زیادہ ہے۔ روایتی بینک اسلامی ونڈوز کھول رہے ہیں۔ اس کی وجہ مذہب نہیں، منافع ہے۔

عقیدے پر مبنی صارف سودے بازی نہیں کرتا۔ وہ اخلاقی اطمینان چاہتا ہے۔ بینک اس بات کو سمجھتے ہیں۔ بازار اسے انعام دیتا ہے۔

یہ صارف کی سادگی نہیں، بلکہ اخلاص ہے۔ مگر یہی اخلاص اگر سوال نہ اٹھائے، تو منافع کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

وہ سوال جو ٹل نہیں سکتا

سعید دین چھوڑنے کی بات نہیں کر رہے۔ وہ فکری دیانت کی بات کر رہے ہیں۔

ان کا سوال سادہ مگر پریشان کن ہے:
اگر رِبا کا مقصد استحصال روکنا تھا، تو ہمیں مالی نظام کو نتائج کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے یا صرف معاہدوں کی ساخت پر؟

یہ سوال گستاخانہ نہیں۔ یہ اخلاقی ہے۔

اسے خطرناک بنانے والی چیز اس کا وقت ہے۔ اسلامی بینکاری اب تجربہ نہیں رہی۔ یہ ایک صنعت ہے۔ اور صنعتیں آئینہ دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔

سعید درست ہیں یا غلط، یہ فیصلہ ثانوی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو کبھی مکمل یقین رکھتا تھا، آج کھلے عام سوال اٹھا رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Selective Islamophobia: Why “Jihad” Is a Fear in Europe but a Paycheck in the Gulf

 One of the ugliest comments under the German housing discrimination case didn’t come from a European nationalist. It came from an Indian us...