وہ خدا پر بحث جو دراصل خدا کے بارے میں تھی ہی نہیں
ویڈیو کا عنوان ایک بڑے سوال کے گرد گھومتا ہے: کیا خدا موجود ہے؟
دو ذہین شخصیات آمنے سامنے ہیں۔ مفتی شمیل ندوی، جن کی تربیت دینیات اور فلسفے میں ہوئی۔ اور جاوید اختر، شاعر، فلمی مکالمہ نگار، اور ایک عوامی دانشور، جو طویل عرصے سے ہندوستانی عقلیت پسندی اور الحاد سے وابستہ رہے ہیں۔
ظاہری طور پر یہ ایک سیدھی سادی بحث لگتی ہے۔ منطق بمقابلہ شکوک۔ ایمان بمقابلہ انکار۔
لیکن حقیقت میں یہاں کچھ اور ہی ہو رہا ہے۔ دونوں افراد ایک ہی سوال پر بحث نہیں کر رہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ مکالمہ کبھی ایک نکتے پر نہیں آ پاتا۔
ایک اسٹیج، دو مختلف سوال
مفتی شمیل ندوی اس بحث میں کلاسیکی مابعدالطبیعاتی انداز کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ ان کی توجہ مذہب، علما یا تاریخ پر نہیں بلکہ وجود پر ہے۔
یہ سوال کہ: کچھ ہے ہی کیوں؟ کچھ نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں موجود ہے؟
اس زاویے سے سائنس کی ایک حد ہے۔ اس لیے نہیں کہ سائنس کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ناپی جا سکنے والی چیزوں سے نمٹتی ہے۔ خدا، ندوی کے مطابق، کوئی مادی شے نہیں جو سیاروں یا ذرات سے مقابلہ کرے۔
خدا سے تجرباتی ثبوت مانگنا ایسے ہی ہے جیسے منطق کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے مائیکروسکوپ مانگ لیا جائے۔ غلط آلہ۔ غلط زمرہ۔
اسی لیے وہ منطق، عقل اور فلسفے کی طرف جاتے ہیں۔
وہ امکان (Contingency) کے استدلال کو سامنے رکھتے ہیں۔ ہماری نظر میں آنے والی ہر چیز محتاج ہے۔ درخت مٹی کے محتاج ہیں۔ ستارے طبیعی قوانین کے۔ کائنات… کسی اور چیز کی۔
اگر ہر چیز کسی اور پر منحصر ہے تو اس انحصار کا سلسلہ لامحدود نہیں ہو سکتا، ورنہ کوئی حقیقی وضاحت باقی نہیں رہتی۔ کہیں نہ کہیں ایک ایسی ہستی ہونی چاہیے جو خود کسی پر منحصر نہ ہو۔ جو واجب الوجود ہو۔ ازلی ہو۔ غیر معلول ہو۔
ندوی کے نزدیک یہ اندھا ایمان نہیں۔ یہ معقول ایمان ہے۔
دوسری طرف، جاوید اختر کو مابعدالطبیعات میں دلچسپی نہیں۔ ان کی دلچسپی تاریخ میں ہے۔
وہ یونانی، رومی، مصری اور جرمن قبائل کے خداؤں کو دیکھتے ہیں۔ کبھی مانے گئے۔ کبھی پوجے گئے۔ آج عجائب گھروں میں دفن۔ مردہ خدا۔ بھولے بسے خدا۔
وہ ایک سادہ مگر بے رحم سوال اٹھاتے ہیں: اگر اتنے خدا مٹ گئے، تو موجودہ خدا کیوں محفوظ رہے گا؟
ان کے نزدیک ایمان وہ یقین ہے جس کے پیچھے کوئی شہادت، کوئی دلیل، کوئی منطق نہ ہو۔ اور جب کسی چیز کو بغیر ثبوت ماننے کا مطالبہ کیا جائے، تو یہ خود اس کی کمزوری کی علامت ہے۔
یہیں لکیر کھنچ جاتی ہے۔
ندوی پوچھتے ہیں:
وجود کے لیے کیا ہونا لازم ہے؟
اختر پوچھتے ہیں:
انسانوں نے تاریخ میں کیا کچھ گھڑا، پوجا اور پھر چھوڑ دیا؟
دونوں سوال اہم ہیں۔ لیکن ایک جیسے نہیں۔
وہ اخلاقی جال جس سے کوئی نہیں بچتا
اگر اختر درست ہیں، تو اخلاقیات صرف انسانی اتفاق پر زندہ ہیں۔ ان کی کوئی کائناتی ضمانت نہیں۔ انصاف نازک ہے۔ عارضی ہے۔ طاقت کے توازن پر منحصر ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت بدلتے ہی انصاف اکثر زمین بوس ہو جاتا ہے۔
اگر ندوی درست ہیں، تو اخلاقیات معروضی ہیں۔ انسانی خواہش سے ماورا۔
مگر پھر مذہب صرف ترغیب نہیں رہتا، وہ حکم بن جاتا ہے۔ اور حکم، تاریخ میں، شاذ و نادر ہی نرم رہا ہے۔
یہ تضاد حل نہیں ہوتا۔
ہو بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ صرف منطقی مسئلہ نہیں۔ یہ انسانی مسئلہ ہے۔
اصل سوال
یہ بحث دراصل خدا پر نہیں ہے۔
یہ اعتماد پر ہے۔
انسانی عقل پر اعتماد۔ کائنات میں کسی اخلاقی ڈھانچے پر اعتماد۔ اس یقین پر اعتماد کہ معنی دریافت ہوتا ہے یا یہ کہ معنی انسان خود بناتا ہے اور ہر روز اس کی حفاظت کرتا ہے۔
اختر انسان پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔ ندوی ایسی دنیا سے خائف ہیں جہاں انصاف کی کوئی بنیاد نہ ہو۔
دونوں اعتماد غیر معقول نہیں۔ دونوں محفوظ بھی نہیں۔
اور شاید یہی اس بحث کی اصل اہمیت ہے۔
کیونکہ خدا ہو یا نہ ہو، اصل سوال پھر بھی باقی رہتا ہے:
انسان کس قسم کی دنیا بناتا ہے، جب وہ سمجھتا ہے کہ کوئی دیکھ نہیں رہا اور جب وہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہمیشہ دیکھ رہا ہے؟
تاریخ دونوں کے حق میں خوفناک شواہد پیش کرتی ہے۔
No comments:
Post a Comment