موبائل پیکجز، بند ٹاورز، اور وہ نقصان جو صرف عوام کا ہے

موبائل پیکجز، بند ٹاورز، اور وہ نقصان جو صرف عوام کا ہے

یہ شکایت نئی نہیں۔ لیکن اس بار آواز میں تھکن ہے، غصہ نہیں۔ اور شاید یہی خطرناک بات ہے۔

کچھ دن پہلے ایک وائرل پوسٹ پڑھی۔ الزام سیدھا تھا: موبائل کمپنیاں پاکستان میں سب سے بڑا فراڈ کر رہی ہیں۔ پہلے سگنل کبھی بند نہیں ہوتے تھے۔ اب پیکجز آ گئے ہیں، پیسے ایڈوانس میں وصول ہو جاتے ہیں، تو بجلی جاتی ہے اور ٹاور خاموش ہو جاتے ہیں۔

بات جذباتی ہے۔ مگر کیا یہ غلط بھی ہے؟

میں نے ذرا پیچھے جا کر سوچا۔ واقعی، ایک وقت تھا جب لوڈشیڈنگ کے باوجود موبائل سگنل برقرار رہتا تھا۔ کال چلتی تھی۔ نیٹ ورک سانس لیتا تھا۔ اس کی ایک سادہ سی وجہ تھی: کمپنی کو نقصان ہو رہا تھا۔ کال بند، آمدن بند۔

آج کہانی الٹی ہے۔

ایڈوانس پیمنٹ کا نیا کھیل

اب زیادہ تر صارفین ماہانہ پیکج لیتے ہیں، ہفتہ وار بنڈل چلاتے ہیں، ڈیٹا، کال، ایس ایم ایس سب ایک ساتھ خرید لیتے ہیں۔

کمپنی کو پیسہ پہل

Comments

Popular posts from this blog

What’s it like to grow up in Vienna, Austria? | Young and European

Flying Just Got a Lot More Expensive — and Tariffs Are Only the Beginning

Could the Crown Slip? The Dollar's Grip in a Shifting World