سیاست دان ناکام تھے، یا اختیار ہی نہیں تھا؟ — الزام، حقیقت اور پاکستان کا اصل مسئلہ

سیاست دان ناکام تھے، یا اختیار ہی نہیں تھا؟ — الزام، حقیقت اور پاکستان کا اصل مسئلہ

پاکستانی سیاست میں ایک جملہ بہت آسانی سے استعمال ہو جاتا ہے:
“سب کچھ فوج نے خراب کیا۔”

اور اس کے جواب میں فوراً دوسرا جملہ آتا ہے:
“سیاست دان خود کرپٹ اور نااہل تھے، فوج کو الزام دینا بہانہ ہے۔”

دونوں جملے زور سے بولے جاتے ہیں۔ دونوں میں غصہ ہے۔ اور… دونوں آدھے سچ پر کھڑے ہیں۔

یہ بات ماننے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کے کئی سویلین حکمران کرپٹ تھے، نااہل تھے، اور اقتدار میں آ کر عوامی اصلاحات کے بجائے ذاتی مفادات میں الجھے رہے۔ ٹیکس نظام نہ بدلا، پولیس اصلاحات نہ ہوئیں، مقامی حکومتیں کمزور رہیں، اور ادارے اندر سے کھوکھلے ہوتے چلے گئے۔

جب حکومتیں ختم ہوئیں یا ناکام ہوئیں تو اکثر نے سارا ملبہ فوج پر ڈال دیا۔ عوام کا سوال بجا ہے: جب آپ کے پاس اقتدار تھا تو آپ نے کیا کیا؟

یہ تنقید درست ہے۔ لیکن یہی پوری کہانی نہیں۔

اصل مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے: کیا پاکستان میں کبھی کسی سویلین حکومت کو مکمل اختیار حاصل رہا؟

پاکستان کا نظام بظاہر جمہوری ہے، مگر عملی طور پر طاقت کی سرحدیں پہلے سے کھینچی ہوئی ہیں۔ خارجہ پالیسی، سلامتی، علاقائی معاملات، اور بعض اوقات احتساب بھی ان سرحدوں میں شامل ہیں۔

منتخب حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر ان حدود کو چھیڑنا ہمیشہ خطرے سے خالی نہیں رہا۔ کبھی فائلیں رک جاتی ہیں، کبھی “اشارے” ملتے ہیں، کبھی ماحول اچانک بدل جاتا ہے۔ ٹینک ہمیشہ سڑک پر نہیں آتے، مگر دباؤ محسوس ہوتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سسٹم خود سیاست دانوں کو بگاڑ دیتا ہے۔ جب مکمل اختیار نہ ہو تو حکمران اصلاحات

No comments:

Post a Comment

Selective Islamophobia: Why “Jihad” Is a Fear in Europe but a Paycheck in the Gulf

 One of the ugliest comments under the German housing discrimination case didn’t come from a European nationalist. It came from an Indian us...