ر بار جب امریکہ میں کوئی سماجی بگاڑ، نشے کا بحران یا اخلاقی زوال کی تصویر سامنے آتی ہے، ہمارے ہاں ایک جملہ فوراً حاضر ہو جاتا ہے:
“یہ دجالی نظام ہے۔”
بات ختم۔
سوچ بند۔
سوال معطل۔
میں ان مناظر سے انکار نہیں کرتا۔ فلاڈیلفیا کا کینسنگٹن ہو یا کسی اور امریکی شہر کی سڑکیں، انسان واقعی ٹوٹا ہوا نظر آتا ہے۔ نشہ، تنہائی، ذہنی بیماری۔ یہ سب حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس تصویر کو صرف دجال کی علامت بنا کر کیوں دیکھتے ہیں، اور پھر مطمئن ہو کر نظریں پاکستان سے کیوں چرا لیتے ہیں؟
دجال کا لیبل، ایک آسان راستہ
جب ہم کہتے ہیں کہ “یہ مغربی دجالی نظام ہے”، تو دراصل ہم خود کو ایک سہولت دیتے ہیں۔
ہم یہ ماننے سے بچ جاتے ہیں کہ:
نشہ صرف مغرب کا مسئلہ نہیں
ذہنی دباؤ صرف سیکولر معاشروں میں نہیں
خاندانی نظام صرف وہاں نہیں ٹوٹ رہا
دجال کا لیبل ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں پر بات نہ کریں۔
کیونکہ اگر سب کچھ فتنۂ آخرالزماں ہے، تو پھر اصلاح کی ذمہ داری کس پر ہے؟
پاکستان میں بگاڑ نظر کیوں نہیں آتا؟
یہاں ایک عجیب تضاد ہے۔
امریکہ میں نشہ سڑک پر پڑا دکھائی دیتا ہے، اس لیے وہ ہمیں چونکا دیتا ہے۔
پاکستان میں بگاڑ خاموش ہے، اس لیے نظر نہیں آتا۔
نوجوان منشیات میں جا رہے ہیں، مگر بند کمروں میں
ڈپریشن عام ہے، مگر “کمزوری” کہہ کر دبا دیا جاتا ہے
بے روزگاری ہے، مگر صبر کا وعظ دے کر نمٹا دی جاتی ہے
ناانصافی ہے، مگر “مصلحت” کا نام دے دیا جاتا ہے
یہاں لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی اندر سے خالی ہو رہے ہیں۔
فرق صرف یہ ہے کہ لاشیں فٹ پاتھ پر نہیں، گھروں کے اندر پڑی ہیں۔
اسلامی نظام کا دعویٰ، مگر انسان کہاں ہے؟
ہم فخر سے کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔
سوال یہ ہے:
کیا اسلامی نظام کا مقصد صرف نعروں اور دفعات تک محدود ہے؟
اگر:
انصاف کمزور کے لیے نہ ہو
علاج صرف امیر کے لیے ہو
تعلیم صرف مخصوص طبقے تک محدود ہو
ریاست شہری کو بوجھ سمجھے
تو پھر ہم کس بنیاد پر خود کو اخلاقی برتری میں کھڑا کرتے ہیں؟
یہ کہنا آسان ہے کہ امریکہ دجالی ہے۔
یہ ماننا مشکل ہے کہ ہم نے بھی اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔
دعا اور ذمہ داری کے درمیان فرق
میں اس بات سے متفق ہوں کہ یہ زمانہ آسان نہیں۔
فتنہ ہے، بے چینی ہے، خوف ہے۔
مگر ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے:
اگر ہر بگاڑ کو ہم آخری زمانے کی نشانی کہہ دیں،
تو پھر اصلاح، احتساب اور انسان کے اختیار کا تصور کہاں جائے گا؟
دعا یقیناً ضروری ہے۔
لیکن دعا اس وقت بامعنی بنتی ہے جب اس کے ساتھ
سوال بھی ہو،
عمل بھی ہو،
اور خود احتسابی بھی۔
آخری بات
امریکہ کو دیکھ کر دجال یاد آتا ہے۔
کاش پاکستان کو دیکھ کر بھی انسان یاد آ جائے۔
شاید اصل امتحان یہ نہیں کہ دجال کب آئے گا،
بلکہ یہ ہے کہ
جب انسان ٹوٹ رہا ہو تو
ہم کیا کرتے ہیں؟
یا بس لیبل لگا کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟
No comments:
Post a Comment