یہ کالم کیوں ناپسند کیا گیا؟

 اور کیا یہ واقعی PECA کی خلاف ورزی تھا؟**

کبھی کبھی مسئلہ الفاظ نہیں ہوتے۔
مسئلہ وہ سچ ہوتا ہے جو خاموشی سے قاری تک پہنچ جائے۔

زورین نظامانی کا کالم “It is over” کسی انقلابی تحریک کی کال نہیں تھا۔ اس میں نہ بغاوت کی اپیل تھی، نہ کسی ادارے یا شخصیت کو نشانہ بنایا گیا، اور نہ ہی تشدد یا نفرت کی زبان استعمال ہوئی۔ اس کے باوجود یہ تحریر برداشت نہ کی جا سکی۔ سوال یہی ہے کہ آخر کیوں؟

کالم میں اصل بات کیا تھی؟

یہ تحریر دراصل ریاست اور نوجوان نسل کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی نشاندہی تھی۔

مصنف کا مؤقف سادہ تھا:

  • حب الوطنی لیکچرز اور سیمینارز سے پیدا نہیں ہوتی

  • جب روزگار، رہائش، تعلیم اور انصاف میسر نہ ہوں تو نعرے بے اثر ہو جاتے ہیں

  • نوجوان نسل ریاستی بیانیہ سنتی ضرور ہے، مگر اب اسے بغیر سوال قبول نہیں کرتی

  • انٹرنیٹ اور عالمی رابطوں نے سوچ پر پہرا ممکن نہیں چھوڑا

یہ سب ایک سیاسی رائے تھی۔ سخت ضرور، مگر رائے۔

حکومت کو یہ تحریر کیوں ناگوار گزری؟

کیونکہ اس نے طاقت کے تین حساس دعووں کو بغیر نام لیے چیلنج کیا:

  1. اخلاقی برتری کا دعویٰ
    کالم نے واضح کیا کہ اخلاقیات کا درس تب بامعنی ہوتا ہے جب مواقع بھی دیے جائیں۔

  2. بیانیے کی اجارہ داری
    تحریر نے تسلیم کیا کہ نوجوان اب خود سوچ رہے ہیں، انہیں بتایا نہیں جا رہا کہ کیا سوچنا ہے۔

  3. خاموش لاتعلقی
    یہ احتجاج کی بات نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی نسل کی نشاندہی تھی جو شور کے بجائے خاموشی اختیار کر رہی ہے۔

طاقت کے لیے یہی خاموشی سب سے زیادہ تشویش ناک ہوتی ہے۔

کیا یہ PECA کی خلاف ورزی تھی؟

قانونی طور پر جواب واضح ہے: نہیں۔

PECA درج ذیل چیزوں کو جرم قرار دیتا ہے:

  • تشدد پر اکسانا

  • نفرت انگیز مواد

  • ریاستی اداروں کے خلاف براہ راست اشتعال

  • دہشت گردی یا سائبر جرائم

اس کالم میں:

  • کسی ادارے یا فرد کو نشانہ نہیں بنایا گیا

  • کسی قسم کی بغاوت یا تشدد کی اپیل نہیں تھی

  • صرف حکمرانی کے نتائج پر سوال اٹھایا گیا

سیاسی اختلاف، تنقید یا مایوسی جرم نہیں ہوتی۔

اصل مسئلہ کہاں تھا؟

اصل مسئلہ قانون نہیں تھا۔
اصل مسئلہ اخلاقی ساکھ میں دراڑ تھی۔

یہ تحریر ریاست کے خلاف نہیں تھی،
یہ ریاست کی نوجوان نسل سے دوری کی نشاندہی تھی۔

اور شاید اسی لیے اسے ہٹا دیا گیا۔

نتیجہ

ریاستیں نعروں سے نہیں چلتی ہیں۔
وہ اعتماد سے چلتی ہیں۔

جب نوجوان یہ محسوس کریں کہ:

  • وہ سنے نہیں جا رہے

  • انہیں مستقبل نہیں دیا جا رہا

  • اور ان سے صرف اطاعت مانگی جا رہی ہے

تو وہ احتجاج نہیں کرتے۔
وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔

اور تاریخ بتاتی ہے کہ خاموشی سب سے بڑی وارننگ ہوتی ہے۔

No comments:

Post a Comment

Iran Intelligence Failure: Corruption, Patronage, and the Cracks in Tehran’s Security Wall

  Structural vulnerabilities inside intelligence institutions can create openings for foreign recruitment and espionage. Iran intelligence f...