جب ایک تیرہ سالہ بچی کو دیارِ غیر سے صرف اس لیے وطن لایا جائے کہ اسے "ٹک ٹوک" بنانے کے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا اخلاقی ڈھانچہ منہدم ہو چکا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس وحشت کی علامت ہے جو ہمارے گلی کوچوں میں رچ بس گئی ہے۔ کوئٹہ سے لے کر اسلام آباد تک، کیا ہم واقعی ایک ایسی بستی بن چکے ہیں جہاں عورت کی خود مختاری اس کی زندگی کی سب سے بڑی دشمن ہے؟
پاکستان میں خواتین کا تحفظ آج ایک ایسا سوالیہ نشان بن چکا ہے جس کا جواب ڈھونڈنے میں ریاست اور معاشرہ دونوں ناکام نظر آتے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2024 میں صرف غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی 2025 کی رپورٹ میں پاکستان صنفی مساوات کے لحاظ سے 148 ممالک میں آخری درجے پر آ چکا ہے۔ یہ تنزلی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ترقی کی نہیں بلکہ تنزلی کی کھائی میں گر رہے ہیں۔
ان المناک واقعات کا تسلسل دراصل قانون کی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ جب مجرموں کی سزا کے بجائے "جرگہ سسٹم" اور "قبائلی روایات" کو فوقیت دی جاتی ہے، تو انصاف کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ کوئٹہ میں پیش آنے والا واقعہ، جہاں ایک باپ نے اپنی ہی بیٹی کو محض سوشل میڈیا کے استعمال پر قتل کر دیا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس حد تک ذہنی طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ کیا ریاست کی خاموشی ان درندوں کے لیے لائسنس کا کام نہیں کر رہی؟
اگر ہم اب بھی خاموش رہے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان "طالبانہ ذہنی مریضوں" کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے اور ایک ایسا مثال قائم کرے کہ پھر کسی کو ایسی ہمت نہ ہو۔ انسانی چہرہ تب ہی درست ہو سکتا ہے جب ہم اپنی بیٹیوں کو جینے کا حق دیں گے۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر دراصل ظلم کی پرورش ہے؛ اور اب وقت ہے کہ اس پرورش کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔
No comments:
Post a Comment