ہر یہودی صیہونی ہے؟ ستمر ہاسیدک اور ریاستِ اسرائیل کا تنازعہ

 

کیا ہر یہودی صیہونی ہے؟ ستمر ہاسیدک اور ریاستِ اسرائیل کا تنازعہ

​اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام یہودی مذہبی بنیادوں پر ریاستِ اسرائیل کے حامی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس انتہائی پیچیدہ اور حیران کن ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک بڑا اور بااثر حلقہ اسرائیل کی موجودگی کو مذہبی طور پر گناہ سمجھتا ہے؟

Satmar Hasidic anti-Zionism محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک گہرا مذہبی عقیدہ ہے۔ ربی یوئیل ٹیٹل بوم (Rabbi Joel Teitelbaum) نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "Vayoel Moshe" میں یہ واضح کیا کہ مسیحا کی آمد سے قبل انسانی کوششوں سے کسی خود مختار ریاست کا قیام تورات کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ امریکہ میں آباد تقریباً 7.3 ملین یہودیوں میں سے 25,000 کے قریب ستمر خاندان اس سخت گیر موقف پر قائم ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ریاست بنانا الٰہی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

​یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیاسی اتحاد اکثر حقائق کو دھندلا دیتے ہیں۔ جب کوئی سیاسی رہنما (جیسے کہ ممڈانی) نیٹورے کارٹا یا ستمر جیسے گروہوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، تو وہ اسے "وسیع یہودی حمایت" کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ ایک اقلیتی اور غیر روایتی سوچ ہے۔ ستمر فرقے کے لیے صیہونیت کی مخالفت ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص سورج نکلنے سے پہلے زبردستی گھر کی لائٹیں جلا کر یہ دعویٰ کرے کہ صبح ہو گئی ہے؛ ان کے نزدیک اصل صبح (مسیحا کی آمد) کا انتظار ہی اصل عبادت ہے۔

​مذہبی اصولوں کی یہ پاسداری ان کے لیے اتنی اہم ہے کہ وہ اپنی شناخت کو صیہونی ریاست سے بالکل الگ رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد محض سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ اپنے ایمان کا تحفظ ہے۔ اگرچہ ان کی آواز بہت بلند ہے، لیکن کیا یہ آواز پوری عالمی یہودی برادری کی نمائندگی کرتی ہے؟ بلاشبہ، اس معاملے میں "حقائق کی جانچ" (The verification of facts) ہمیں ایک مختلف تصویر دکھاتی ہے۔ یہ گروہ اگرچہ نظریاتی طور پر بہت مضبوط ہیں، لیکن عددی لحاظ سے یہ یہودی آبادی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔

​کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس موضوع پر مزید تفصیلات فراہم کروں کہ نیٹورے کارٹا اور ستمر فرقے کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟

No comments:

Post a Comment

Selective Islamophobia: Why “Jihad” Is a Fear in Europe but a Paycheck in the Gulf

 One of the ugliest comments under the German housing discrimination case didn’t come from a European nationalist. It came from an Indian us...