عورت نظریے کے لیے خودکش نہیں بنتی

 بلوچستان میں تشدد، بدلہ اور خاموش ریاست کی کہانی

یہ مان لینا آسان ہے کہ لوگ نظریات کے لیے مرتے ہیں۔

یہ مان لینا مشکل ہے کہ لوگ زخموں کے لیے مرتے ہیں۔

بلوچستان میں خودکش حملوں، خاص طور پر خواتین کے استعمال پر جب بات ہوتی ہے تو فوراً ایک لفظ سامنے آتا ہے: نظریہ۔

قوم پرستی، مزاحمت، آزادی۔

لیکن یہ الفاظ اکثر اصل سوال کو ڈھانپ لیتے ہیں۔

کوئی بھی عورت محض کتاب پڑھ کر، نعرہ سن کر، یا کسی انقلابی تقریر سے متاثر ہو کر خود کو اڑانے کا فیصلہ نہیں کرتی۔

یہ فیصلہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں انصاف مر چکا ہو۔

بدلہ، نظریے سے پہلے آتا ہے

جب کسی لڑکی کا باپ لاپتہ ہو جائے۔

جب بھائی کی لاش نہ ملے، صرف افواہ ملے۔

جب ماں عدالت کے چکر کاٹ کاٹ کر خاموش ہو جائے۔

جب ریاست صرف طاقت کی زبان سمجھے اور دکھ کی نہیں۔

تو غصہ نظریہ نہیں مانگتا۔

وہ معنی مانگتا ہے۔

اسی لمحے کوئی آ کر کہتا ہے:

تمہارا دکھ ذاتی نہیں، قومی ہے۔

تمہارا بدلہ انتقام نہیں، قربانی ہے۔

تمہاری موت بے معنی نہیں، تاریخ ہے۔

یہی وہ موڑ ہے جہاں درد کو نظریہ مل جاتا ہے۔

عورت وہاں پہنچتی ہے جہاں سب راستے بند ہوں

خواتین کا تشدد میں آنا طاقت کی علامت نہیں۔

یہ سماجی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔

جب:

خاندان بکھر جائے

معاشی سہارا ختم ہو جائے

سماج تحفظ دینے سے قاصر ہو

ریاست انصاف دینے میں ناکام ہو

تو ایک عورت کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں:

خاموشی یا تباہی۔

اور جب خاموشی برسوں سنی نہ جائے

تو تباہی بولنے لگتی ہے۔

یہ اختیار نہیں۔

یہ مجبوری ہے، جسے بہادری کا نام دے دیا جاتا ہے۔

نظریہ وجہ نہیں، پردہ ہوتا ہے

اگر نظریہ ہی اصل وجہ ہوتا تو:

قیادت کی اپنی بیٹیاں بھی پہاڑوں پر ہوتیں

ہر طبقے سے برابر تعداد میں لوگ شامل ہوتے

تعلیم یافتہ، محفوظ خاندان بھی یہی راستہ چنتے

لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

ہمیشہ کمزور، زخمی، تنہا لوگ آگے آتے ہیں۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نظریہ چنگاری نہیں،

صرف آگ کو شکل دیتا ہے۔

جب ریاست خاموش ہو، تشدد زبان بن جاتا ہے

جہاں عدالتیں کام کرتی ہیں، لوگ انتظار کرتے ہیں۔

جہاں میڈیا سنتا ہے، لوگ بولتے ہیں۔

جہاں سیاست راستہ دیتی ہے، تحریکیں بدلتی ہیں۔

اور جہاں یہ سب بند ہو جائے

وہاں تشدد آخری زبان بن جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تشدد درست ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ خاموشی زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔

اصل سوال

ہم خودکش حملوں کی مذمت کر سکتے ہیں۔

اور کرنی بھی چاہیے۔

لیکن اگر ہم یہ سمجھنے سے انکار کریں کہ لوگ یہاں تک کیوں پہنچے

تو ہم صرف لاشیں گنتے رہیں گے،

وجہ کبھی نہیں بدلیں گے۔

جب تک:

دکھ کو تسلیم نہیں کیا جاتا

انصاف کو نظر نہیں آنے دیا جاتا

بدلے کے بجائے شفا کا راستہ نہیں بنتا

تب تک نظریہ بدلتا رہے گا،

لیکن لاشیں آتی رہیں گی۔

اور اکثر، وہ لاشیں ان کی ہوں گی

جن کے پاس جینے کا کوئی اور راستہ نہیں چھوڑا گیا۔

No comments:

Post a Comment

Selective Islamophobia: Why “Jihad” Is a Fear in Europe but a Paycheck in the Gulf

 One of the ugliest comments under the German housing discrimination case didn’t come from a European nationalist. It came from an Indian us...